sherosokhan_animation_small.gif

Adab Nama

aligadh_university.jpg
canadian_urdu_writers.jpg
sbazm_tahfuz_urdu.jpg
writers_foeum_canada.jpg
iqbal_academy_canada.jpg
 
family_of_hear.jpg
jeddah_m_report.jpg
ghalib_academy.jpg
2urdu_writers_la.jpg

shame_afsana_17_june07.jpg
shame_afsana2_17_june07.jpg
shame_razaul_jabbar.jpg
shame_razaul_jabbar3.jpg
nasren_syed_writers_forum.jpg
report_akhtar_jamal_june_3.jpg
report_akhtar_jamal2_june_3.jpg
report_jashan.jpg
report_jashan2.jpg
mehfil_29_april.jpg
2mehfil_29_april.jpg
jeddah_april_07.jpg
jeddah2april_07.jpg

" بزمِ فانوس " کا سالانہ مشاعرہ

 

بزم فانوس کا سالانہ مشاعرہ بتاریخ ۲۱/ اپریل ٹورانٹو میں منعقد ہوا، جس میں شعر و ادب کے باذوق سامعین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مشاعرے کی صدارت جناب رسول احمد کلیمی نے کی جب کہ نظامت جناب ناظم الدین مقبول نے اپنے خاص انداز میں کی۔ مہمان خصوصی پاکستان کے قونصل جنرل تصدق حسین صاحب تھے ، اور مہمانِ اعزازی جناب دل محمد اور زین العابدین اوکاڈیا تھے۔کلام پاک کی تلاوت سے مشاعرے کا آغاز ہوا اور ایک خوبصورت نعت اعزاز علوی صاحب نے پڑھی۔

اس مشاعرے میں  اثر اکبر آبادی،خالد عزیز، ڈاکٹر رشید گل، نذیر صدر، بیگم زری ظفر، کرامت غوری، نزہت صدیقی، عابدہ کرامت ، خلیل یوسف صدیقی، شکیل خان، ہاشم نقوی، مصباح انصاری، فیصل عظیم، طارق حسین،سبطین کاظمی، فہمیدہ مقبول، یونس اعجاز، جمال زبیری، واصف حسین واصفؔ، روحیل خان، ناظم الدین مقبول، سید افتخار حیدر، سلمان اطہر، اور  رحمٰن خاور نے کلام سنایا۔

آٹوا سے خاص طور پر جناب ولی عالم شاہیں نے شرکت کی اور اپناکلام سنا کر داد حاصل کی۔  جناب حافظ اشتیاق طالب علالت کے سبب شریک مشاعرہ نہ ہو سکے، لیکن ان کا کلام  انجم قریشی سے سنایا۔ مشاعرے کے اختتام پر بزمِ فانوس کی جانب سے تحفے  دئیے گۓ۔ بزم فانوس کی جانب سے ایک عشایۂ بھی دیا گیا اور ایک خوبصورت مجلّہ بھی پیش کیا گیا۔ مشاعرہ رات دیر گۓ تک جاری رہا اور یہ ایک کامیاب محفل ثابت ہویٔ ، اس کے لے جناب منیف اشعرؔ صاحب قابل تحسین ہیں۔

 

نوٹ: ایم پی جیم کیری، اور واجد خان نے بھی بطور خاص شرکت کی۔

 

محفل کی چند تصاویر ہم بشکریہ اخبار "عوام" اور جناب بشیر  ناصر،   پیش کر رہےہیں۔

mushaira_bazme_fanoose2.jpg
javaid_danishpr.jpg
javaid_danishp.jpg

diwan_ghalib1.jpg
diwan_ghalib2.jpg
 

corner_sherosokhan.jpg

اردو زبان تہذیب و ثقافت کا عظیم خزانہ

مولانا آزاد یونیورسٹی میں " غالب شاعر زیست"

 

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد میں مرزا غالب کے ۲۱۰ ویں یوم ولادت کے موقع پر پہلا ایک روزہ بین الاقوامی سمینار منعقد کیا گیا۔ اس کی صدارت پروفیسر اے۔ ایم پٹھان وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کی۔ ڈاکٹر سی ناراین ریڈی سابق وائس چانسلر تلگویونیورسٹی نے کہا کہ ہمیں اپنی شناخت کی برقراری کے لئے اپنی زبان کو زندہ رکھنا ہوگا۔ اردو زبان تہذیب و ثقافت کا عظیم خزانہ ہے۔ مرزا غالب کے گزرنے کے اتنے برسوں باوجود وہ اپنی شاعری کے ذریعہ ہمیشہ زندہ ہیں۔ ڈاکٹر سی۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ ہندوستانی زبانیں آج عجیب ماحول سے دوچار ہیں۔ ہندوستا نیون نے آزادی حاصل کرنے کے باوجود، تہذیب و تمدن، زبان اور ادب کے رمزے میں ابھی وہ آزادی نہیں ہیں، اور ہم انگریزی کے آنچل سے بندھے ہیں۔

         

پروفیسر اے ایم پٹھان وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی  نے اس موقع پر ڈاکٹر سید تقی عابدی ﴿ کینیڈا﴾ کی تصنیف کردہ کتاب " غالب و دیوان نعت و منقبت" کی رسم اجرا انجام دی اور اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو یونیورسٹی میں لکچرس کے علاوہ آج پہلی مرتبہ سمینار منعقد کیا جا رہا ہے جو مرزا غالب کے ۲۱۰ ویں ولادت کے موقع پر انہیں خراج ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مؤلف " غا لب و دیوان نعمت و منقبت" ڈاکٹر تقی عابدی سے اپیل کی کہ اگر ان کے پاس اضافی قلمی مخطوطات ہوں تو وہ اسے اردو یونیورسٹی کے میوزیم کو عطیہ دیں۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی نے جوا ب میں اعلان کیا ان کے پاس اگر اضافی مخطوطات ہوں تو وہ اسے ضرور اردو یونیورسٹی کو بطور عطیہ دینگے۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ ٹورانٹو، کینیڈا میں ان کی شخصی لائبریری میں تقریباً ۱۵ ہزار کتب اور دو ہزار سے زائد قلمی مخطوطا ت موجود ہیں اور ان کی وصیت کے مطابق ان کے انتقال کے بعد ۱۲ گھنٹوں کے اندر ساری کتابیں اور مخطو طا ت ٹورا نٹو لائبریری کو منتقل کردی جائیں گی۔ ڈاکٹر سید تقی عابدی نے ڈاکٹر سی نارائن ریڈی کی اردو سے وابستگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کسی مذہب کی زبان نہیں ہے بلکہ یہ بر صغیر پاک و ہند کی زبان ہے اسے مذہب کے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔

 

          ابتداء میں پروفیسر ایس اے وہاب قیصر، کنٹرولر امتحانات یونیورسٹی نے خیر مقدمی تقریر کی اور مہمان ڈاکٹر سی نارائن ریڈی کا تعارف کرایا ۔ تقریب میں ڈاکٹر قمر رئیس نائب صدر نشین دہلی اردو اکیڈیمی، جناب طالب خوند میری، ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ، ڈاکٹر فاطمہ پروین، ڈاکٹر مسرت جہاں، جناب کمال کے علاوہ اساتذہ کی کثیر تعداد موجود تھی۔

 

"اردو کی نئی بستیاں" عنوان پر ڈاکٹر تقی عابدی کا توسیعی لیکچر

 

ڈاکٹر سید تقی عابدی نے مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں " اردو کی نئی بستیاں" کے عنوان پر ایک توسیعی لکچر بھی دیا۔ سماجی تبدیلیوں اور عصری تقاضوں کے مطابق زبان و ادب کو بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی چاہیے ۔ اردو زبان بے حد نرم لچک دار اور نمی کی حامل ہے لیکن اردو والوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی، اور جب تک مٹی نم نہیں ہوگی وہ زرخیز

 

corner_sherosokhan.jpg

نہیں بن سکتی۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنے لکچر کےدوران کیا۔ اردو تہذیب سے وابستہ افراد کسی ملک یا تمدن تک محدود نہیں ، اردوداں چاہے کسی ملک سے تعلق رکھتے ہوں لیکن اجنبی ممالک  میں جب اردو کے نام پر ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے بہت قریب ہو جاتے ہیں۔ صرف شمالی امریکہ بشمول کینیڈا میں ۲۵ لاکھ افراد اردو بولنے والے ہیں، جہاں تقریباً ۵۰ اخبارات ، رسائل اور جرائد اردو میں شائع ہوتے ہیں۔

         

آگے چل کر آپ نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد بعض گوشوں کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اردو صرف ۵۰ سال کی مہمان ہوگی۔ لیکن یونیسکو کے مطابق اردو آج دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے۔ تقریبا ایک سو برس سے قبل اردو والوں کی بستیاں بسنا شروع ہو گئی تھیں۔ ایک سو دس سال قبل لندن میں اردو کی پہی بستی وجود میں آئی۔ جس کے بعد یورپ کے مختلف ممالک اور مشرق وسطٰی کے بعد آج امریکہ میں قدم مضبوط کر چکی ہے۔

 

          انھوں نے کہا کہ آج " اردو کی نئی بستیوں" میں اردو کو زندہ رکھنا بہت بڑا سوال بن گیا ہے۔ کیونکہ جس زبان کے بغیر زندگی کی تمام ضروریات پوری ہو جاتی ہوں، جس زبان کے اختبار نہ کرنے سے کسی طرح کی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی ہو اس زبان میں دلچسپی کیسے پیدا کی جائے؟ ڈاکٹر تقی عابدی نے خود بھی کئی تجاویز پیش کیں۔ تاہم محبان اردو کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں اور اس سمت میں پیش قدمی کریں۔ انھوں نے کہا مغربی ممالک میں مشاعرےاردو کی مقبولیت کا ایک اہم ذریعہ  ہیں۔ یہاں چار سو سے پانچ سو اردو مشاعرے معقد ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ مشاعرے جو پہلے ادبی دانش گاہ ہوا کرتے تھے اب صرف تماشا گاہ بن گئے ہیں۔ اس کے ذریعہ اردو کی خدمت نہیں بلکہ خود نمائی اور شہرت پسندی زیادہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا اردو کی بستیوں میں اردو زبان میں خطبات جمعہ، میلاد کے جلسےاورعزا داری کی محافل بھی فروغ پا رہی ہیں۔ جدید وسائل جیسے انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے ذریعہ ہم اس کے فروغ کے لئے کام کریں ۔ اردو کو مادری زبان کہنے والے اپنے بچوں کو اردو سیکھائیں تو یہ زبان زوال پذیر نہیں ہو سکتی۔  

 

ڈاکٹر عابدی نے جلسوں اور سمیناروں میں نوجوان نسل کو موقع دینے کی وکا لت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو اپنی باری کھیل چکے، اب نوجوان نسل ہی کے شانوں پر اردو کے تحفظ و بقا کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پروفیسر پٹھان نے کہا کہ ہندوستان میں اردو زبان کی ترقی و ترویج اردو ذریعہ تعلیم سے مربوط ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو انفارمیشن ٹکنالوجی سے مربوط کرتے ہوئے تمام عصری علوم کی اردو زبان میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پروفیسر پٹھان نے اس خصوص میں اردو یونیورسٹی میں نو قائم کردہ سنٹر فار پروفیشنل ڈیولپمنٹ آف اردو میڈیم ٹیچرس کو پرائمری اساتذہ کی تربیت کے لئے ایک اہم قدم اور پیش رفت سے تعبیر کیا۔ ابتدا میں ڈاکٹر محمد ظفر الدین صدر شعبہ ترجمہ نے ڈاکٹر عادی کا تعارف پیش کیا اور خیر مقدمی تقریر کی جبکہ لکچرر فاصلاتی تعلیم ڈاکٹر نکہت جہاں نے جلسے کی نظامت کی۔ ڈاکٹر شجاعت علی راشد انچارج شعبہ تعلقات عامہ نے شکریہ ادا کیا۔ لکچر کے بعد شریک طلباء و اساتذہ نے سوالات بھی کئے اور  ڈاکٹر تقی عابدی  نے اطمنان بخش جوابات بھی دئے۔ اس توسیعی لکچر میں یونیورسٹی کے تدریسی و غیر تدریسی شعبوں کے اراکین، طلبا، اسکا لرس اور محبان اردو کی کثیر تعداد موجود تھی

 

homepage.jpg